نئی دہلی،02 ؍فروری ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بہار میں مجرمین اور بدمعاش قانون کی دھجیاں اڑارہے ہیں۔اتنا ہی نہیں سرعام اور دن دہاڑے قتل، لوٹ جیسی وارداتوں کو انجام دے کر سشاسن بابو کے نام سے جانے جانے والے وزیر اعلی نتیش کمار کی حکومت کو چڑھا رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ایک بار پھر سے بہار میں بگڑتے قانون نظام پر حزب اختلاف کے لیڈر اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے وزیر اعلی کو خط لکھا ہے اور اس پر کچھ اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔تیجسوی یادو نے بہار میں خراب قانون نظام کے بارے میں اپنے خط میں لکھا۔انہوں نے لکھا کہ ایسا لگتا ہے کہ سماجی عناصر کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے تاکہ وہ جرائم کا ارتکاب جاری رکھیں،ان دنوں ریاست بھر سے دن دہاڑے کنٹراکٹ قتل، سیاسی قتل، عصمت دری، وصولی کے لئے اغوا، اور مختلف طرح کے جرم اقتدار کے قریب رہنے والے لوگوں کی حمایت سے ہو رہا ہے، آئے دن ایسی خبریں آرہی ہیں۔ریاست کے بے بس اور لاچار لوگ اب یہ ماننے لگ ہیں کہ ریاست میں کوئی قانون نظام کی حکمرانی نہیں ہے اور یہاں کوئی محفوظ نہیں ہے۔تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا کہ اقتدار کے قریبی لوگ ان واقعات کے پیچھے ہیں۔ بتادیں کہ ہفتہ کے روز بہار میں پٹنہ میں ایک پٹرول پمپ بھی مسلح ڈاکوؤں کی طرف سے لوٹ مار کی گئی،اس میں پٹرول پمپ کا ملازم بھی مارا گیا تھا۔